حضرت محمد   
حضرت فاطمہ ذہراء   
حضرت علی مرتضیٰ   
حضرت حسن مجتبیٰ   

حضرت حسین   

حضرت ذینَ لعابدین   
حضرت باقر   
حضرت جعفر صادق   
حضرت موسیٰ کاظم   
حضرت علی رضا   
حضرت محمد نقی   
حضرت محمد تقی   
حضرت علی عسکری   
حضرت مہدی آخرِ زمان   

قاضی وسیم عباس ملک کے نامور ذاکر قاضی صفدر کے بیٹے ہیں۔قاضی صفدر مرحوم ا ۱۹۲۳ میں اپنے آبائی شہر ملتان میں پیدا ہوئے۔قاضی صاھب اپنی مخصوص آواز کی وجہ سے اپنے وقت کے ممتاز ومعروف ذاکرین میں سے تھے۔قاضی صفدر مرحوم نے کم عمری میں ذاکری کی ابتدا کی اور بہت قلیل عرصہ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ نے اپنی ذندگی کے تیس سال سے زائد کا عرصہ خدمت دین محمدیؐ اور فضائل محمدﷺو آل محمدﷺ اور مصائب شہداء کربلا میں گذارا۔
قاضی وسیم عباس ۱۹۷۴میں اولیاء کرام کے شہر ملتان میں پیدا ہوئے۔ اس وقت کسی کو یہ معلوم نہ تھا کی یہ ننھا بچہ بڑا ہو کر پاکستان کی ذاکری دنیا میں ایک درخشندہ باب کا اضافہ کرے گا۔اور نہ صرف اپنے آباؤاجداد بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کرے گا۔قاضی وسیم عباس نے اپنی ابتدائی تعلیم ملتان سے حاصل کی ۔آپ نے اپنی اعلی تعلیم بھی ملتان سے حاصل کی۔ریاضی میں ماسٹرڈگری حاصل کرنے کے بعد مدحتِ حیدر (ع) اور غم شبیر(ع) کو وسیلہ بنا کرتبلیغ دین محمدی(ص) کا اہم کام شروع کیا۔
ذاکری میں اپنے والد گرامی قاضی وسیم صفدر مرحوم کے سامنے زانوئے ادب بچھایا۔اور فنِ ذاکری کے اصول قوائد اور ابتدائی قوانین سے واقفیت حاصل کی۔لیکن والد گرامی کے ساتھ ان کی رفاقت ذیادہ عرصہ تک نہ قائم رہ سکی اور صرف چار سال کے بعد والدِگرامی کا انتقال ہو گیا۔اس کے بعد قاضی وسیم عباس نے ملک کے نام ورذاکر سید ضرغام شاہ سے مشرف ۔۔۔۔۔۔۔ حاصل کیا۔اور فنِ ذاکری میں فضائل محمد(ص) و آل محمد(ص) اور مصائب شہداء کربلاو اسیرانِ شام کا بیا ن کرنے کے علاوہ شاعری کی ابتدا کی۔ یوں توانہوں نے شاعری کی ابتدا بچپن سے ہی کر دی تھی مگر عرصہ دس سال سے ذاکری اورشاعری میں بے تاج بادشاہ کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔جس جشن یا مجلس میں قاضی وسیم عباس کی آمد متوقع ہو ان کے دیوانے سامعین گھنٹوں ان کے منتظر رہتے ہیں۔بلکہ کئی میل کی مسافت طے کر کے ان کی جادو بھری آواذ میں فضائل اہلبیت سننے کے لیے آتے ہیں کلام شاعر ۔۔۔۔۔ لطف ہی کچھ اورہوتا ہے۔
قاضی وسیم عباس اپنے لکھے ہوئے قصیدے جب اپنی مخصوص آواذ اور منفرد انداذ میں پٹرھتے ہیں تو محفل میں عجیب سماں پیدا ہوجاتا ہے۔نعرہ حیدری کی گونج ااوردمادم مست قلندر کی دھمال سے ایسا سرور پیدا ہو جاتا ہے کہ غدیر خم کی مہک آنا شروع ہو جاتی ہے۔قاضی وسیم ایک ہزار سے زائد قصیدے شان
قاضی وسیم عباس کو آل پاکستان قصیدہ مقابلہ کوٹلہ شاہ 2007 میں اول انعام سے نوازا گیا۔۳،۴ شعبان جشن حضرت امام حسین (ع) اور حضرت عباس (ع) علمدارچک شیعہ میں سونے کی خوبصورت شیلڈ سے نواذا گیا۔
دنیاوی انعاموں کے علاوہ مولائے متقیانِ حیدرِ کرار (ع) کی جانب سے قاضی صاحب کو جو بہیش قیمت روحانی انعام ملا ہے وہ سامعین کرام کا وہ کیف وسرور ہے۔جو ان کے بیان کے دوران حاصل کرتے ہیں۔
جہاں قاضی صاحب قصیدہ گوئی میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں وہاں مصائب اہلبیت بیان کرنے میں بھی خداوندِ بزرگوار نے انہیں ایک ایسی دردانگیز آواذ عطا کی ہے کہ جب وہ کربلا کے پیاسوں اور کوفہ و شام کے قیدیوں کے واقعات بیان کر رہے ہوتے ہیں تو سننے والے کے دماغ میں تمام مناظر سامنے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

حسن مجتبیٰ

Latest Majalis Update

حضرت علی اکبر ؑ

حضرت بی بی سکینہ

Posters